بالاسور،4/جون (ایس او نیوز/یو این آئی) اڈیشہ کے بالاسور ضلع میں جمعہ کی شام تین ٹرینوں کے ایک ہولناک حادثے میں کم از کم 288/ افراد ہلاک اور 1000 سے زیادہ زخمی ہوگئے -وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں اڈیشہ کے بالاسور ضلع میں جائے حادثہ پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا-
اس موقع پر ان کے ساتھ ریلوے کے وزیر اشونی وشنو اور ریلوے اور ریاستی حکومت کے سینئر افسر بھی موجود تھے -ایک سرکاری ریلیز کے مطابق مسٹر مودی نے جائے واردات پر مقامی حکام، ڈیزاسٹر ریلیف فورس کے اہلکاروں اور ریلوے کے اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی- انہوں نے اس ہولناک سانحے سے نمٹنے اور اس کے مصائب کو کم کرنے کیلئے پوری حکومتی مشینری کے جامع انداز اپنانے پر زور دیا-ریلوے کے وزیر وشنو نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے - وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں ریاست میں ایک روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے
-واضح رہے کہ یہ حادثہ کل شام تقریباً 7بجے بالاسور ضلع کے بہاگنا اسٹیشن کے قریب اس وقت پیش آیا جب چنئی سمت سے اپ لائن پر آنے والی 12841 کورومنڈیل ایکسپریس کو سگنل ملا تھا اور اس سے پہلے ایک مال گاڑی بہاگنا اسٹیشن پر پہنچی تھی- اپ لوپ لائن پر کھڑے ہیں تھرو سگنل کی وجہ سے کورو مینڈیل اپنی پوری رفتار یعنی تقریباً 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی تھی- تو یہ کسی مقام پرپٹری سے اترگئی- 21بوگیاں اس وقت پٹری سے اتر گئیں جب کورومنڈیل ایکسپریس کا انجن لوپ لائن پر کھڑی مال ٹرین سے ٹکرا گیا، جب کہ تین بوگیاں 12864 ڈاون ہوڑہ-یشونت پور جانے والی دورانتو ایکسپریس سے ملحقہ ڈاؤن لائن پر ایک ہی وقت میں ٹکرا گئیں - جس سے دورانتو ایکسپریس کی آخری دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں - حادثے میں زخمی ہونے والے 1000 سے زائد افراد کو ریاست کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے -
وزیر اعلیٰ پٹنائک کے علاوہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، وزیر ریلوے وشنو، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا- اوڈیشہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر منموہن سمل اور اوڈیشہ کانگریس کے صدر سرت پٹنائک سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے -مسٹر ویشنو آج صبح بہناگا پہنچے اور ریلوے کے سینئر حکام، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور اوڈیشہ ریپڈ ایکشن فورس ٹیموں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا- انہوں نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے - انہوں نے کہا کہ راحت اور بچاؤ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے -
انہوں نے جائے واقع پر موجود لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وہاں سے چلے جائیں تاکہ ریلوے حکام مرمت کا کام مکمل کر سکیں -مسٹر ویشنو نے کہا کہ اب زخمی مسافروں کے علاج کو ترجیح دی جا رہی ہے -انہوں نے کہا کہ حادثے کی وجوہات کی تہہ تک پہنچنے کیلئے تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی- حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مستقبل میں ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں -وزیر ریلوے نے کہا کہ فی الحال زخمیوں کی راحت اور علاج پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے -انہوں نے جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا-مسٹر ویشنو نے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے - اس حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی-
انہوں نے کہا کہ کمشنر آف ریلوے سیفٹی جلد ہی جائے واقع کا دورہ کریں گے اور صورتحال کا جائزہ لیں گے -ادھر اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ پٹنائک نے ریاست میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے - ریاست میں آج کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی گئی-محترمہ بنرجی عہدیداروں کے ساتھ جائے واقع پر گئیں - ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرین میں ٹکر روکنے والے آلات نصب کیے جاتے تو حادثے سے بچا جا سکتا تھا- انہوں نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے بنگال کے لوگوں کے لواحقین کیلئے پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا- انہوں نے کہا کہ ریاست کے 40ڈاکٹر اور 110/ ایمبولینس جائے حادثہ پر تعینات ہیں اور وہ ضرورت مندوں کی مدد کر رہے ہیں -
محترمہ بنرجی نے کہا کہ بنگال حکومت نے بسیں فراہم کی ہیں تاکہ مسافروں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جا سکے -ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرین میں ٹکر روکنے والے آلات نصب کیے جاتے تو ایسے ہولناک حادثے سے بچا جا سکتا تھا-مرنے والوں کی تعداد کے حوالے سے وزیر ریلوے سے ان کی معمولی بحث بھی ہوئی-اڈیشہ کے چیف سکریٹری پی کے جینا نے کہا کہ لاشوں کی شناخت اور پوسٹ مارٹم کا عمل شروع کر دیا گیا ہے - انہوں نے کہا کہ ایک اپیل کے بعد جمعہ کی رات سینکڑوں لوگ زخمیوں کی ضروریات کیلئے خون کا عطیہ دینے ہسپتالوں میں آئے -بالاسور ضلع میں اب تک 900یونٹ سے زیادہ خون جمع کیا جا چکا ہے - ایس ایس بی کالج میں 100یونٹ خون جمع کیا گیا ہے - کوچ سے نکالی گئی لاشوں کو بہانگا کے دو اسکولوں میں رکھا گیا ہے - لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے مقامی اسپتال لایا جا رہا ہے -ریلوے کی ایک تکنیکی ٹیم نے آج صبح جائے حادثہ کا فضائی سروے کیا ہے - حادثے میں کم از کم 15کوچز اور ایک انجن کو نقصان پہنچا ہے -
100ٹرینس متاثر: اڈیشہ کے بالاسور ضلع میں کل شام پیش آئے ٹرین حادثے کی وجہ سے 58 سے زیادہ ٹرینیں مکمل طور پر منسوخ کر دی گئیں، 10 کو جزوی طور پر منسوخ کیا گیا جبکہ 41 ٹرینوں کا رخ موڑ دیا گیا- ساؤتھ ایسٹرن ریلوے کی ایک ریلیز کے مطابق، کھڑگپور-بھونیشور سیکشن پر چلنے والی 58 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ 10 ٹرینوں کو جزوی طور پر منسوخ کیا گیا ہے- تبدیل شدہ روٹ پر 41 ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں جبکہ بدلے ہوئے وقت پر ایک ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے-
ممکنہ اسباب:اڈیشہ میں پیش آئے خوفناک ٹرین حادثہ کو لے کر حکومت اور ریل انتظامیہ پر کئی طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں - تین ٹرینوں کے آپس میں متصادم ہونے کا واقعہ حیران کرنے والا ہے- مرکزی وزیر ریل اشونی ویشنو نے بھی اس حادثہ پر حیرانی اور فکر کا اظہار کیا ہے- انھوں نے اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم بھی دے دیا ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے- لیکن کچھ ریل ایکسپرٹس نے اس حادثے کے پیچھے موجود اہم وجوہات بیان کی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تکنیکی خامیاں اور بداحتیاطی سینکڑوں مسافروں کیلئے مہلک ثابت ہوئی- آئیے نظر ڈالتے ہیں حادثہ کے ان 5 ممکنہ اسباب پر جن کی طرف ماہرین نے واضح اشارہ کیا ہے-
درجہ حرارت: ریل ایکسپرٹ نے پانچ اسباب میں سے سب سے پہلا سبب درجہ حرارت بتایا ہے- جب گرمی کے موسم میں درجہ حرارت 40ڈگری کے پار چلا جاتا ہے تو ریل کی پٹریاں زیادہ خطرناک ہو جاتی ہیں - دن کے وقت میں پٹریاں پھیلتی ہیں، اور رات میں ٹھنڈ کے سبب سکڑتی ہیں - اس پھیلاؤ اور سکڑن کے سبب ریل کی پٹریوں میں دراڑیں آ جاتی ہیں - یہ اڈیشہ ٹرین حادثہ کی وجہ ہو سکتی ہے-
ٹیکنالوجی کا فیل ہونا:کوچ(ڈھال)ہندوستانی ریل ٹریک میں استعمال کیا جانے والا ایک ڈیوائس ہے، جو ایک ٹرین کو ایک طے دوری پر رکنے میں مدد کرتا ہے- اگر کوئی ٹرین یکساں ٹریک پر آتی ہے تو آٹومیٹک بریکنگ سسٹم نافذ ہو جاتا ہے اور ٹرین رک جاتی ہے- شاید اڈیشہ کے بالاسور میں ایسا نہیں ہو سکا اور ٹرین حادثہ کا شکار ہو گئی-
سگنلنگ فیلیور: ریل ماہرین نے تیسری ممکنہ وجہ سگنلنگ فیلیور بتایا ہے- ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل ریل ٹریک میں سگنلنگ خود بخود ہوتی ہے، پھر بھی سگنل آپریشن میں فیلیور یا سافٹ ویئر کی خرابی کے سبب سگنل فیل ہو سکتے ہیں - ایسا ہونے سے دو ٹرینیں ایک ہی لائن پر آ سکتی ہیں - ماہرین کے مطابق لوکوموٹیو پائلٹ دوسری ٹرین دیکھتا ہے اور وہ ایمرجنسی بریک لگاتا ہے، لیکن ہائی اسپیڈ ٹرین ہونے کے سبب حادثہ ہو جاتا ہے-
فش پلیٹ میں خامی: اڈیشہ ٹرین حادثہ کی ایک بڑی وجہ فش پلیٹ میں خامی ہو سکتی ہے- ماہرین کا کہنا ہے کہ فش پلیٹ دو پٹریوں کو جوڑتی ہے- اگر فش پلیٹ کھلی رہتی ہے یا فش پلیٹ کا پینچ کھلا رہتا ہے تو پٹری ڈھیلی ہو جاتی ہے اور حادثہ کی وجہ بنتی ہے-
ٹیرر اینگل: ماہرین حادثہ کی ایک ممکنہ وجہ دہشت گردی کو بھی بتا رہے ہیں - دراصل اڈیشہ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش اب بھی ماؤنواز متاثرہ علاقے ہیں - اگر کوئی ٹریک کی فش پلیٹ کھول دیتا ہے تو ٹرین خود ہی پٹری سے اتر جائے گی اور حادثہ پیش آئے گا- ماہرین نے گنیشوری ٹرین حادثہ کی مثال بھی پیش کی- اس حادثہ میں تقریباً 100 لوگوں کی موت ہو گئی تھی-
اتبدائی جانچ میں وجہ نمائی:ساؤتھ ایسٹرن ریلوے کے کمشنر آف ریلوے سیفٹی نے پہلے ہی طے شدہ پروٹوکول کے مطابق اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں - وہیں ایس ای آر کی طرف سے کی گئی محکمہ جاتی جانچ میں ابتدائی طور پر اس حادثے کی وجہ سگنلنگ سسٹم کی مکمل ناکامی یا بڑے پیمانے پر انسانی غلطی کو مانا جا رہا ہے-ایس ای آر سے متعلقہ محکموں کے ذریعہ کی گئی ابتدائی جانچ میں اپ سگنلنگ سسٹم کی ایک بڑی خامی نکل کر سامنے آئی ہے - ابتدائی جانچ کے نتیجوں کے مطابق مین یو پی لائن کا سگنل گرین ہونا تھا اور وہاں سے کورو منڈل ایکسپریس کو گزر جانا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا -آر آر آئی(روٹ ریلے انٹرلاکنگ سسٹم) کی پوری طرح سے ناکامی کی وجہ سے 128 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آرہی کورومنڈل ایکسپریس نے پوائنٹ نمبر 17 / اے کے پاس بائیں موڑ لیا اور وہاں کھڑی مال گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماردی - تصادم اتنا شدید تھا کہ کورو منڈل ایکسپریس کے 15 ڈبے پٹری سے اتر گئے - سات پوری طرح سے پلٹ گئے، چار ریل لائن سے اچھل کر دوسرے ڈبوں پر چڑھ گئے -
غلطی کس کی؟:اس واقعے کے حوالے سے بہت سے ممکنہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن کا اس سانحہ میں کوئی کردار ہو سکتا ہے- جمعہ کی شام 6.50سے 7.10بجے کے درمیان اڈیشہ کے بالاسور میں تین ٹرینوں کے درمیان ٹکر ہوئی جس کی وجہ سے کئی ڈبے ایک دوسرے کے اوپر آگئے- این ڈی ٹی وی کے مطابق، ایک مسافر ٹرین، کورومنڈیل شالیمار ایکسپریس، ایک کھڑی مال گاڑی سے ٹکرانے کے بعد پٹری سے اتر گئی اور ایک دیگر ٹرین، یشونت پور-ہاؤڑا سپرفاسٹ، پٹری سے اترے ڈبوں سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو گئی- ٹکر اتنی زوردار تھی کہ پٹریوں پر گرنے سے پہلے ڈبے ہوا میں اونچے اڑ گئے، ایک کوچ اس کی چھت پر جا گرا- دونوں ٹرینوں کے 17ڈبے بری طرح تباہ ہوگئے-